میں اسی سوچ میں رہتا ہوں کدھر جاتی ہے
Hadi Mustafabadiمیں اسی سوچ میں رہتا ہوں کدھر جاتی ہے
تیری خوشبو جو مجھے چھو کے گزر جاتی ہے
خط کے بدلے انہیں کچھ پھول پہنچ جاتے ہیں
میری تحریر بہ الفاظ دگر جاتی ہے
مجھ کو آوارہ نگاہی کا تو الزام نہ دے
تیرے دھوکے میں حسینوں پہ نظر جاتی ہے
اضطراب نگہ شوق پہ آتی ہے ہنسی
تیرے ہوتے جو نظر جانب در جاتی ہے
تھے تو غصے میں مگر ہنس بھی دئے ہیں ایسے
فصل گل جاتے ہوئے جیسے ٹھہر جاتی ہے
میں جسے کہنے کو بے چین ہوں ان سے ہادیؔ
جانے کیوں دھیان سے وہ بات اتر جاتی ہے