اس طرح درد کا تم اپنے مداوا کرنا
Habeeb Aarviاس طرح درد کا تم اپنے مداوا کرنا
یاد ماضی کو چراغ رہ فردا کرنا
تیری دزدیدہ نگاہی کے میں سو بار نثار
دیکھنے والے اسی چاہ سے دیکھا کرنا
حشر تک جینے کا ارمان لیے بیٹھا ہوں
تم ذرا زیست کے اسباب مہیا کرنا
خواہش دید کی توہین ہے جلووں کا خیال
میری نظروں کا تقاضا ہے کہ پردا کرنا
ایک احسان ہے قدرت کی جفا کاری پر
اس کی دنیا میں بھی جینے کی تمنا کرنا
میری تسکیں کے لیے پھر کوئی وعدہ کیجے
آپ پر فرض نہیں وعدہ کا ایفا کرنا
حسن بیتاب ہو خود وصل کی خاطر اے حبیبؔ
عشق کو چاہئے انداز وہ پیدا کرنا