ہیں دھبے تیغ قاتل کے جسے دھونے نہیں دیتے

Habeeb Aarvi

ہیں دھبے تیغ قاتل کے جسے دھونے نہیں دیتے

مرے احباب تجدید وفا ہونے نہیں دیتے

مری وحشت کے سائے جھانکتے رہتے ہیں روزن سے

یہ آدم خور مجھ کو رات بھر سونے نہیں دیتے

شکست آرزو رسوائی فکر و نظر پیہم

یہی حالات مجھ کو آپ کا ہونے نہیں دیتے

تقاضائے وفا میں بھی ستم کا ایک پہلو ہے

میں رونا چاہتا ہوں اور وہ رونے نہیں دیتے

حبیبؔ اپنی خطا تھی ہو گئے رسوا زمانے میں

کہ ہم صحن چمن میں بجلیاں بونے نہیں دیتے