رند بادہ نوش جس کا مے کدے میں نام تھا

Faiz Rahmani Faiz

رند بادہ نوش جس کا مے کدے میں نام تھا

ساقیا محفل میں تیری وہ ہی تشنہ کام تھا

اس جہان آرزو میں آشنا کوئی نہ تھا

تھا اگر کچھ آشنا تو درد بے آرام تھا

آج کیوں عظمت کا پرچم ہے ہمارا سرنگوں

بام و در پر شہر کے کل تک اسی کا نام تھا

جلتے رہنا کینہ و بغض و حسد کی آگ میں

کیا ترے اسلاف کا اے دل یہی پیغام تھا

ہر طرف سونا سماں تھا خامشی کا راج تھا

جو بھی طیر خوش نوا تھا وہ اسیر دام تھا

ماسوا اس نیم جاں اور بے کس و نادار کے

فیضؔ تیرا تھا سبھی پر اور لطف عام تھا