یاس کی کہر میں لپٹا ہوا چہرہ دیکھا
Bagh Husain Kamalیاس کی کہر میں لپٹا ہوا چہرہ دیکھا
جسم کا ایک بگڑتا ہوا خاکہ دیکھا
اپنی صورت بھی نہ پہچان سکی آنکھ مری
مدتوں بعد جو میں نے کبھی شیشہ دیکھا
شہر پر ہول میں اب کے یہ عجب منظر تھا
سنگ کشادہ تھا مگر سنگ کو بستہ دیکھا
میں بھی گم صم تھا کوئی بات نہ کرنے پایا
اس کے ہونٹوں پہ بھی جیسے کوئی پہرا دیکھا
تیرا قرب ایک تمنا سو تمنا ہی رہی
حاصل عمر یہی ہے ترا رستہ دیکھا
کیا عجب راکھ سے پیدا ہو کوئی قصر عظیم
ہم نے آتش میں بھی گل زار کا نقشہ دیکھا
میں ہی غمگین نہیں ترک تعلق پہ کمالؔ
وہ بھی ناشاد تھا اس کو بھی فسردہ دیکھا