ہر شے آنی جانی ہے

Aanand Saroop Anjum

ہر شے آنی جانی ہے

جیون بہتا پانی ہے

ہجر کی راتیں وصل کے دن

اک دلچسپ کہانی ہے

حسن ہے فانی عشق مرا

ان مٹ ہے لا فانی ہے

جو نا اہل ہے ان ہاتھوں میں

پھولوں کی نگرانی ہے

رہتے ایک گلی میں ہیں

دونوں کو حیرانی ہے

سب چلتے ہیں ڈگر ڈگر

ایک ڈگر انجانی ہے

اپنا ہے پھر اپنا لہو

پانی آخر پانی ہے

انجمؔ تیری غزلوں میں

سچے پیار کی بانی ہے