اس طرح پہلے تو گھر سے مَیں کبھی نکلا نہ تھا
Ehsan Razaaاس طرح پہلے تو گھر سے مَیں کبھی نکلا نہ تھا
دھوپ تھی چاروں طرف میرے کہیں سایہ نہ تھا
میں ٹھٹھر کر رہ گیا ہوں سرد موسم کے تلے
ورنہ جنگل میں شجر مجھ سے کوئی اونچا نہ تھا
سچ تو یہ ہے دوستوں کو مسکراہٹ تھی پسند
شدت رنج و الم میں اس لیے رویا نہ تھا
پیش کوئی حادثہ آیا کہ منزل آ گئی
دل اچانک راہ میں ایسے کبھی دھڑکا نہ تھا
گھومتی ہے اپنے مرکز پر سنا تو ہے رضاؔ
ہم نے دنیا کو الگ ہو کر کبھی دیکھا نہ تھا