خواب اپنے لہو لہو کر کے
Saba Mumtaz Bano (b. 1985)خواب اپنے لہو لہو کر کے
رو دئے تیری جستجو کر کے
کیسے پاتے تھے کیف و سرشاری
آنکھوں آنکھوں سے گفتگو کر کے
کس قدر پر سکون ہوتے تھے
اپنے جسموں کو سرخ رو کر کے
عشق بے سود تو نہیں اپنا
سوچنا میری آرزو کر کے
لوٹ آؤ کہ ہو گئے بے بس
یاد تیری میں ہاؤ ہو کر کے
ساتھ میرے نہ چل سکا کچھ دیر
زندگی میری مشکبو کر کے
خود کشی تیرے پیار میں کر لی
پھر صباؔ دل نے آرزو کر کے