خوابوں کی تعبیریں بھی ہوں

Vigyan Vrat (b. 1943)

خوابوں کی تعبیریں بھی ہوں

یادوں کی تصویریں بھی ہوں

اپنے عنوانوں جیسی ہی

کاش کہ کچھ تحریریں بھی ہوں

لاکھ طریقے مر جانے کے

جینے کی تدبیریں بھی ہوں

صرف لکیروں سے کیا ہوگا

ہاتھوں میں تقدیریں بھی ہوں

صرف اٹھیں جو حق کی خاطر

کچھ ایسی شمشیریں بھی ہوں