ان کے نقش قدم مہکتے ہیں

Vikas Naseeb

ان کے نقش قدم مہکتے ہیں

پھول بھی جن سے کم مہکتے ہیں

نام لکھتا ہوں خط میں جب ان کا

میرے کاغذ قلم مہکتے ہیں

جب بھی روتا ہوں ان کی یادوں میں

تو مرے چشم نم مہکتے ہیں

ان کی خوشبو بھری ہے سانسوں میں

ہم تو اب دم بدم مہکتے ہیں