کوئی فکر نہ کوئی غم ہے
Pankaj Sarhadiکوئی فکر نہ کوئی غم ہے
میرے ساتھ مرا ہمدم ہے
اس کے تکلم میں ہے ترنم
اور ترنم میں سرگم ہے
آگ لگا دے آگ بجھا دے
وہ شعلہ ہے وہ شبنم ہے
ابھی کہاں سلجھے ہیں مسائل
ابھی تری زلفوں میں خم ہے
لوگ جسے کہتے ہیں منزل
وہ بھی قید بیش و کم ہے
مل جائے تسکین جہاں پر
پنکجؔ وہ ہی رشک ارم ہے