وہ خواب خواب فضا وہ نگر کسی کا تھا

Parvez Bazmi

وہ خواب خواب فضا وہ نگر کسی کا تھا

مسافرت تو مری تھی سفر کسی کا تھا

نظر گریز رہیں اس طرح مری آنکھیں

کہ جیسے میرا نہیں میرا گھر کسی کا تھا

لہو تو میرا چھپا تھا کلی کی مٹھی میں

کھلے گلاب پہ حق نظر کسی کا تھا

بہت بلند مری پاسباں فصیلیں تھیں

دھڑکتے دل کو مرے پھر بھی ڈر کسی کا تھا

یہ ہاتھ پاؤں مرے تھے زبان میری تھی

جو دے رہا تھا اشارے وہ سر کسی کا تھا