سانحہ آج کا یہ کیا کم ہے
Haatif Aarifi Fatehpuriسانحہ آج کا یہ کیا کم ہے
آدمی آدمی سے برہم ہے
تیرگی بھی ہنسی اڑاتی ہے
لو چراغوں کی کتنی مدھم ہے
راہ ہستی کہیں نہ جھلسا دے
دھوپ زائد ہے چاندنی کم ہے
رکھئے لہجے میں پیار کی شبنم
زخم دل کا یہی تو مرہم ہے
آدمی پھر بھی تھک ہی جاتا ہے
راستہ گرچہ زیست کا کم ہے
تلخ کیوں بن گئی زباں تیری
دل دکھانے کو آئنہ کم ہے
چھوڑ کر تو ابھی گیا بھی نہیں
شہر دل میں ابھی سے ماتم ہے