کوئی سمجھا نہیں لگی دل کی

Haatif Aarifi Fatehpuri

کوئی سمجھا نہیں لگی دل کی

بات دل میں سدا رہی دل کی

کتنے نایاب ہو گئے وہ لوگ

جو دعا لیتے تھے دکھی دل کی

مفلسی میں بھی دن کٹیں اچھے

ہو جو حاصل تونگری دل کی

ان دیوں کو بھی تو کرو روشن

دور کر دیں جو تیرگی دل کی

دل نہ چھوڑے اسے کہیں کا بھی

بات مانے جو آدمی دل کی

دوست سمجھا دیوں کا آندھی کو

اور کیا ہوگی سادگی دل کی

شہر سجتے رہے مگر ہاتفؔ

بزم سونی پڑی رہی دل کی