وہ نظر بد گماں سی لگتی ہے
Haatif Aarifi Fatehpuriوہ نظر بد گماں سی لگتی ہے
زندگی رائیگاں سی لگتی ہے
بے یقینی سی بے یقینی ہے
ہر حقیقت گماں سی لگتی ہے
لب کو زحمت ہنسی کی کیا دیجے
جب ہنسی بھی فغاں سی لگتی ہے
شہر دل میں ہے کیسا سناٹا
خامشی بھی بیاں سی لگتی ہے
خوگر تیرگی ہوں جب آنکھیں
روشنی بھی دھواں سی لگتی ہے
کیسے گزرے گی زندگی ہاتفؔ
ہر گھڑی امتحاں سی لگتی ہے