جس کی جانب تو اک نظر دیکھے

Haatif Aarifi Fatehpuri

جس کی جانب تو اک نظر دیکھے

خواب تیرے وہ عمر بھر دیکھے

چین پایا کہیں نہ اس دل نے

گھوم کر ہم نے سو نگر دیکھے

داغ مانا ہیں میرے دامن پر

اپنا چہرہ بھی وہ مگر دیکھے

زہر دیتے رہے مریضوں کو

ہم نے ایسے بھی چارہ گر دیکھے

لطف چاہے جو کوئی جینے کا

اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھے

وہ ہی دن بھر رہا خیالوں میں

خواب تھے جس کے رات بھر دیکھے

حسن بکھرا ہے چار سو ان کا

چشم ہاتفؔ کدھر کدھر دیکھے