میری الفت کو بھی جفا سمجھے

Haatif Aarifi Fatehpuri

میری الفت کو بھی جفا سمجھے

میں نے کیا سمجھا آپ کیا سمجھے

اس نظر کو نظر کہوں کیسے

پتھروں کو جو آئنہ سمجھے

تھی فضاؤں میں وہ گھٹن کہ لوگ

باد صرصر کو بھی صبا سمجھے

بھول بیٹھا ہو جب خدا کو بھی

آدمی آدمی کو کیا سمجھے

بد گماں ہو گئے وہ جب مجھ سے

میری ہر بات کو گلہ سمجھے

چین لینے دیا نہ اک پل کو

اے غم دل تجھے خدا سمجھے

کوئی تو ہو جہاں میں اے ہاتفؔ

میرے دل کا جو ماجرا سمجھے