بے قراری سی بے قراری ہے
Haatif Aarifi Fatehpuriبے قراری سی بے قراری ہے
سانس لینا بھی اب تو بھاری ہے
موت کو کس لئے کریں بدنام
زندگی زندگی سے ہاری ہے
آدمی اس سے بچ نہیں سکتا
وقت سب سے بڑا شکاری ہے
کیا ہوا گر نہیں خوشی اپنی
غم کی جاگیر تو ہماری ہے
شکل اپنی نہ دیکھیے اس میں
آئنہ جو چمک سے عاری ہے
شام کے رنج کو بھی یاد رکھے
چڑھتے سورج کا جو پجاری ہے
گلستاں آپ کا سہی لیکن
زندگی کس نے اس پہ واری ہے