منزلوں اس کو آواز دیتے رہے منزلوں جس کی کوئی خبر بھی نہ تھی

Tab Aslam

منزلوں اس کو آواز دیتے رہے منزلوں جس کی کوئی خبر بھی نہ تھی

دامن شب میں کوئی ستارہ نہ تھا شمع کوئی سر رہ گزر بھی نہ تھی

اک بگولہ اٹھا دشت میں کھو گیا اک کرن تھی جو ظلمت میں گم ہو گئی

زندگی جس کو سمجھے تھے ہم زندگی زندگی مثل رقص شرر بھی نہ تھی

فصل گل سے تھا آباد صحن چمن فصل گل جو گئی رونقیں لٹ گئیں

یوں خموشی سے شام خزاں آئے گی اہل گلشن کو اس کی خبر بھی نہ تھی

اس طرح منزل آرزو کٹ گئی اس طرح یہ گھنی تیرگی چھٹ گئی

اپنے پاؤں پہ یارو خراشیں تو کیا اپنے چہرے پہ گرد سفر بھی نہ تھی

پھر سے آنکھوں کے ساغر چھلکنے لگے موج در موج آنسو نکلنے لگے