دل کے صحرا میں بڑے زور کا بادل برسا
Tab Aslamدل کے صحرا میں بڑے زور کا بادل برسا
اتنی شدت سے کوئی رات مجھے یاد آیا
جس سے اک عمر رہا دعویٔ قربت مجھ کو
ہائے اس نے نہ کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھا
تو مری منزل مقصود ہے لیکن ناپید
میں تری دھن میں شب و روز بھٹکنے والا
پھیل جاتا ترے ہونٹوں پہ تبسم کی طرح
کاش حالات کا پہلو کبھی ہو ایسا
کتنی شدت سے ترے عارض و لب یاد آئے
جب سر شام افق پر کوئی تارہ چمکا
اب کے اس طور سے آئی تھی گلستاں میں بہار
دامن شاخ میں سوکھا ہوا پتا بھی نہ تھا
داستاں غم کی اسے تابؔ سناتے کیوں ہو
کب رگ سنگ سے خوں کا کبھی دھارا نکلا