کوئی بھی نقش سلامت نہیں ہے چہرے کا

Tab Aslam

کوئی بھی نقش سلامت نہیں ہے چہرے کا

بدل گیا ہے کچھ ایسا چلن زمانے کا

میں کس لیے تجھے الزام بے وفائی دوں

کہ میں تو آپ ہی پتھر ہوں اپنے رستے کا

کوئی ہے رنگ کوئی روشنی کوئی خوشبو

جدا جدا ہے تأثر ہر ایک لمحے کا

وہ تیرگی ہے مسلط کہ آسمانوں پر

سراغ تک نہیں ملتا کسی ستارے کا

غضب تو یہ ہے مقابل کھڑا ہے وہ میرے

کہ جس سے میرا تعلق ہے خوں کے رشتے کا

تنا ہوا ہے وہاں آج خیمۂ خورشید

اگا ہوا تھا جہاں کل درخت سائے کا

وہ جا چکا ہے روپہلی رتوں کے ساتھ مگر

بھڑک رہا ہے ابھی تک چراغ سینے کا

گزر رہے ہیں یہ کس پل صراط سے ہم لوگ

کہ دل میں تابؔ گماں تک نہیں ہے جینے کا