یہ ترا بانکپن یہ رعنائی
Iftikhar Jameel Shaheenیہ ترا بانکپن یہ رعنائی
رشک مہتاب تیری زیبائی
حسن تیرا عجب کرشمہ ہے
ایک عالم بنا تماشائی
یاد آیا مجھے بدن تیرا
دور قوس قزح جو لہرائی
جب سے شمع وفا جلائی ہے
انجمن بن گئی ہے تنہائی
یوں گزرتے ہیں دیکھ کر مجھ کو
جیسے مجھ سے نہیں شناسائی
دیپ یادوں کے جل ہی جاتے ہیں
چھیڑ دیتی ہے جب بھی پروائی
نشتر غم نہ جس کو راس آیا
زیست اس کو کبھی نہ راس آئی
ایک روئے حسیں نظر آیا
اب چراغوں میں روشنی آئی
عشق کی خود سپردگی دیکھی
خود تماشا بنا تماشائی