سلے ہوں لب زبانیں بند تو باتیں نہیں ہوتیں
Nafeer Sarmadiسلے ہوں لب زبانیں بند تو باتیں نہیں ہوتیں
مخالف راستے ہوں تو ملاقاتیں نہیں ہوتیں
یہ انسانوں پہ انسانوں کی فوقیت عجب شے ہے
رگوں کی دوڑتی سرخی میں تو ذاتیں نہیں ہوتیں
لکھی جاتی ہیں سنگینوں سے آزادی کی تحریریں
کہیں خود پیش آزادی کی سوغاتیں نہیں ہوتیں
جہاں شب خون مارا جا سکے خوابیدہ لوگوں پر
کسی بیدار ملت میں تو وہ راتیں نہیں ہوتیں
گھٹا سے چھینتے ہیں ایستادہ کوہ بارش کو
زمیں پر لیٹے صحراؤں پہ برساتیں نہیں ہوتیں
نفیرؔ اس دور خود آگاہ انسانوں کی دنیا میں
کہیں حاوی جواں مردوں پہ آفاتیں نہیں ہوتیں