عذاب میں مبتلا کرے گا

Parvez Baghi

عذاب میں مبتلا کرے گا

وہ مجھ کو تجھ سے جدا کرے گا

میں جانتا تھا کسی بہانے

وہ قاتلوں کو رہا کرے گا

ہزار پابندیاں ہوں لیکن

وہ مجھ سے آ کر ملا کرے گا

یہ اس کا دعویٰ تھا ملک میں وہ

سکوں سبھوں کو عطا کرے گا

گھروں سے تم بھی نکل کے آؤ

اکیلا پرویزؔ کیا کرے گا