جوش پر آیا نہیں ہے رقص مستانہ ابھی

Raeesuddin Fareedi

جوش پر آیا نہیں ہے رقص مستانہ ابھی

رہنے دو گردش میں تھوڑی دیر پیمانہ ابھی

جام خالی ہو کسی کا کوئی خم کے خم چڑھائے

یار سمجھے ہی نہیں آداب مے خانہ ابھی

اک ذرا پیر مغاں دے دے ہمیں بھی اختیار

لا کے جوبن پر دکھا سکتے ہیں مے خانہ ابھی

عشق کی فطرت نہ بدلی ہے نہ بدلے گی کبھی

شمع روشن کیجئے آتا ہے پروانہ ابھی

دے دیا دل ہم نے پورا ہو گیا یوں ایک باب

مان جائیں آپ تو پورا ہے افسانہ ابھی

سن رہے ہیں آ رہی ہے ہر طرف تازہ بہار

اپنا گھر کیوں لگ رہا ہے مجھ کو ویرانہ ابھی

اے فریدیؔ وہ ستاتے ہیں ستا لینے بھی دو

کمسنی ہے اور ہیں انداز طفلانہ ابھی