کل تلک ہم تھے خنک چھاؤں میں پلنے والے

Zafar Ahmad Parwaz

کل تلک ہم تھے خنک چھاؤں میں پلنے والے

آج ہیں تیز کڑی دھوپ میں جلنے والے

برق ہے آتشیں لاوا ہے کہ گل ہے کیا ہے

اپنی تعریف بتا آگ اگلنے والے

کون اب تیرے لیے گیت بنے گا اے دوست

چند لمحوں میں فقط ہم ہیں پگھلنے والے

ہے مقدر میں ترے صرف سمندر کا سکوت

موج کی طرح سے گر گر کے اچھلنے والے

آب و گل کا ہے خمیر اپنا مگر اے پروازؔ

ہم وہ برتن نہیں برسات سے گلنے والے