ترے فراق میں گھٹنوں چلی ہے تنہائی

Zafar Ahmad Parwaz

ترے فراق میں گھٹنوں چلی ہے تنہائی

خیال و خواب میں پھولی پھلی ہے تنہائی

ترے خیال ترے ہجر کے وسیلے سے

تصورات میں ہم سے ملی ہے تنہائی

جمال یار میں کھویا ہوا ہے سناٹا

خیال یار میں ڈوبی ہوئی ہے تنہائی

کسی کے شوخ بدن کی ضرورتوں کی طرح

تمام رات سلگتی رہی ہے تنہائی

تمہاری زلف معنبر کا آسرا لے کر

ہماری فکر و نظر میں پلی ہے تنہائی

شب فراق کے مارے نہیں ہو تم پرواز

تمہاری فکر پہ کیوں جم گئی ہے تنہائی