اے رب ذو الجلال ہے میری خطا بلند
Chashma Farooqiاے رب ذو الجلال ہے میری خطا بلند
لیکن خطا سے بڑھ کے ہے تیری عطا بلند
آنکھیں جھکی ہوئی ہیں سروں پر حجاب ہے
کردار منفرد ہے جو ہم نے رکھا بلند
موتی جھلک رہے ہیں جو شبنم کے اوٹ سے
پھولوں سے گلستاں کی ہوئی ہے فضا بلند
حسن و جمال چاند ستاروں کا تذکرہ
اس داستان شوخ میں سب کچھ کہا بلند
کس کا لہو فضاؤں میں پھیلا ہے ہر طرف
بدلی سے ہو رہا ہے جو رنگ حنا بلند
ٹوٹے ہوئے دلوں کو غزل میں سجا دیا
شیشہ گری میں چشمہؔ ہے اس کی ادا بلند