مردہ ہو جاتے ہیں دل موت سے ڈرنے والے

Chashma Farooqi

مردہ ہو جاتے ہیں دل موت سے ڈرنے والے

زندہ رہتے ہیں ترے نام پہ مرنے والے

کون سچائی سے منہ پھیر کے جی سکتا ہے

منزلیں پاتے ہیں حق رہ سے گزرنے والے

حادثے جب نیا کردار وضع کرتے ہیں

انقلاب آتے ہیں دنیا میں نکھرنے والے

گھاؤ ہتھیار کا ہوتا تو کوئی بات نہ تھی

زخم الفاظ کے یوں ہی نہیں بھرنے والے

تم بدل سکتی ہو اس دور کا نقشہ کوئی

خود تو چشمہؔ نہیں حالات بدلنے والے