مضمحل قدموں پہ بار

Zafar Rabab

مضمحل قدموں پہ بار

گردش لیل و نہار

دل ہے کوئے یار میں

سر چلا ہے سوئے دار

گنبد بے در کی گونج

بند ہونٹوں کی پکار

ڈھانپ لو خالی شکم

ہو چکے فاقے شمار

کھا گئی دہقان کو

سبز کھیتوں کی قطار

مدفن محنت کشاں

کارخانوں کے مزار

منزلیں ہیں بے نشاں

راستے گرد و غبار

تن بہت دھویا ربابؔ

میل من کا بھی اتار