مرگ احساس با لیقین آخر

Zafar Rabab

مرگ احساس با لیقین آخر

آدمی بن گیا مشین آخر

ایک اک کر کے ہو گئے رخصت

خانۂ دل کے سب مکین آخر

گھر بھی مدفن بنے ہیں گلیاں بھی

تنگ ہونے لگی زمین آخر

تیری چوکھٹ سے رہ سکے نہ الگ

سنگ‌‌ در ہو گئی جبین آخر

پا سکے خوں بہا دیت نہ قصاص

زندگی کے لواحقین آخر

عشق تسخیر کائنات کے بعد

ہو رہا دل میں ہی مکین آخر

کھیل تو ختم ہو چکا ہے ربابؔ

کیوں رکے ہیں تماشبین آخر