زرد پتوں کو ہوا ساتھ لئے پھرتی ہے
Zafar Rababزرد پتوں کو ہوا ساتھ لئے پھرتی ہے
دم گزیدہ ہیں قضا ساتھ لئے پھرتی ہے
راکھ ہو جائے نہ فاقوں کے جہنم میں حیات
بے کسی اپنی چتا ساتھ لئے پھرتی ہے
ماں کے ہونٹوں سے تھی نکلی دم رخصت جو دعا
مجھ کو اب تک وہ دعا ساتھ لئے پھرتی ہے
آس کی راکھ میں ڈھونڈیں نئی امید کوئی
زندگی بیم و رجا ساتھ لئے پھرتی ہے
سچ کا ہے قحط یہاں جھوٹ کا بازار ہے گرم
اب ہمیں موج فنا ساتھ لئے پھرتی ہے
ایک پتھر ہے بہت جھیل کے سناٹے کو
خامشی کوہ ندا ساتھ لئے پھرتی ہے
اپنے سائے سے گریزاں نہیں اک تو ہی ربابؔ
شہر بھر کو یہ وبا ساتھ لئے پھرتی ہے