لفظ کا بس ہے تعلق میرے تیرے درمیاں

Faheem Aazmi

لفظ کا بس ہے تعلق میرے تیرے درمیاں

لفظ کے معنی پہ قائم سارے رشتوں کا نشاں

پہلے چپ کی گفتگو اس کی سمجھ میں آتی تھی

بھول بیٹھی ہے کہی اور ان کہی دونوں زباں

لفظ خود ہم نے گڑھے اظہار الفت کے لیے

وصل کی تکمیل ہے ممنون تشکیل لساں

ہو نہ گر الفت تو نفرت ہو ضروری تو نہیں

یہ بھی ہو سکتا ہے وہ ہو بے نیاز عاشقاں

لب کشا ہوں یا کہ چپ ہوں دیکھ کر اس کی طرف

ہے فہیمؔ اپنے قبیلے کا سمجھتا ہے زیاں