دیکھو پیاسکی نے کیا سحر منجھ پو کر گئے

Hafiz Dakni

دیکھو پیاسکی نے کیا سحر منجھ پو کر گئے

دل سات دل ملا کر دل چھین منجھ بسر کئے

بے دل ہو میں دیوانی سد بد جو کھو رہی ہوں

جھٹکا لگا نین کا کر تل میں جو خبر گئے

کیسا یو درد نیہ کا ہے لا دوا جگت میں

مل کر طبیب سارے منجھ دیک ہور شہر گئے

او سخت ہے سجن کیا جن پیو باج جیتیاں

اک تل فراق شہ کا منجھ پر قرن گزر گئے

مشتاق جد سے ہئی ہوں حافظؔ ترے درس تھے

کئے لک برس جو تل تل میرے اپر گزر گئے