کھڑکی کھولو کچھ تو یہاں بھی تازہ نرم ہوا آئے
Ibn-ul-Hasanکھڑکی کھولو کچھ تو یہاں بھی تازہ نرم ہوا آئے
منظر صحن چمن کا ابھرے بوئے درد ربا آئے
بے جاں فن میں جان سی آئے زخم تمنا تازہ ہو
یاد میں رنگ حنا کا لہکے رقص میں باد صبا آئے
ماہ گزیدہ رات ہے ساکت جیسے کوئی آئینہ
اوس کے سبزے پر گرنے کی سناٹے میں صدا آئے
فضل خزاں کے سوکھے پتے ہانپ رہے ہیں سائے میں
سایہ اپنے تہہ خانوں میں جائے انہیں پہنچا آئے
پہروں دل سے باتیں کر کے چین سے بیٹھے ہیں ایسے
جیسے جو کچھ بھی کہنا تھا دنیا بھر کو سنا آئے
نہر پہ سایہ بار شجر کے جال سے موجیں الجھی ہیں
کوئی حسنؔ اس الجھا دے کوئی جائے ذرا سلجھا آئے