دکھا رہا ہے انگوٹھا فلک سے تارا مجھے
Aanand Akhtarدکھا رہا ہے انگوٹھا فلک سے تارا مجھے
دھکیل دے نہ بلندی سے پھر دوبارا مجھے
مرے سوا بھی کوئی قید ہے خرابے میں
عجیب طور سے وہ رات بھر پکارا مجھے
مرے خلاف کھڑا ہو گیا ہے کون آخر
جو روپ دھار کے میرا ہی تیر مارا مجھے
کیا جب اس نے تہہ آب میری کشتی کو
سمجھ میں بات نہیں آئی کیوں ابھارا مجھے
ابھی سمیٹ رہا ہوں میں دھجیاں اپنی
نہ جاؤ چھوڑ کے ایسے میں بے سہارا مجھے