ہر چند کہ غالب کے طرف دار بہت ہیں
Qadir Khan Sartajہر چند کہ غالب کے طرف دار بہت ہیں
لیکن یہ مرے دوست پر اسرار بہت ہیں
جمتی ہوئی دیکھی ہے ہتھیلی پہ بھی سرسوں
یہ لوگ زمانے کے تو فن کار بہت ہیں
شرمندۂ احساس نہ ہو گردش دوراں
بربادئ جاں کو تو مرے یار بہت ہیں
یہ عقل کہے راہ ملاقات نہیں ہے
دل ہم سے کہے اس برس آثار بہت ہیں
کچھ ان کے لیے ہاتھ اٹھا اور دعا کر
سرتاجؔ ترے ان دنوں بیمار بہت ہیں