مناظر میں نیا اک حسن عیاں ہوتا
Rab Nawaz Maelمناظر میں نیا اک حسن عیاں ہوتا
فسردہ پا سے لمحوں کا بیاں ہوتا
مگر ہوتے نہ جو اک یاد کے جگنو
اثاثہ ہست شب کا کیا یہاں ہوتا
لہو ٹھہرے متاع ہست صد اطوار
لہو سے یوں بھی روشن تر جہاں ہوتا
کسے بتلائیں ایسی تازہ سی خواہش
تسلسل سے دکھوں ہی کا سماں ہوتا
ادھر اکتاہٹیں ہیں نو بہ نو مائل
ہمیں جینے کو تاروں کا جہاں ہوتا