سنو مرا خیال ہے

Tabinda Sahar Abidi

سنو مرا خیال ہے

یہ زندگی وبال ہے

عجیب بے رخی سی ہے

بڑا خراب حال ہے

نہ گفتگو میں شوخیاں

نہ سر رہا نہ تال ہے

کبھی خدا کبھی صنم

یہ کیسا گول مال ہے

محبتوں کی آڑ میں

ہوس کا ایک جال ہے

بہار ہے گریز پا

دلوں کا خستہ حال ہے

گنوا دیا ہے سوز دل

کہ پتھروں سا حال ہے

زمانہ بے مثال تھا

زمانہ بے مثال ہے

کسی کی چاہ میں سحرؔ

عروج بھی زوال ہے