روشنی کا قالب جب تیرگی میں ڈھلتا ہے

Yahya Khalid

روشنی کا قالب جب تیرگی میں ڈھلتا ہے

خواہشوں کے سینے میں میرا دل مچلتا ہے

ریگزار سوچوں کا سورجوں کی زد میں ہے

جسم آرزوؤں کا ہولے ہولے جلتا ہے

جب بھی کوئی ہم راہی ساتھ چھوڑ جاتا ہے

مدتوں خیال اس کا ساتھ ساتھ چلتا ہے

عمر بھر کی قسمت کب اتنا تو ٹھہر جاتا

جتنا ایک مفلس کے گھر چراغ جلتا ہے

انتظار کا صحرا پھیلتا ہی جاتا ہے

اک سراب بن کر وہ راستے بدلتا ہے