موج دریا کی طرح تم بھی ابلنا سیکھو

Ehsas Gayawi

موج دریا کی طرح تم بھی ابلنا سیکھو

بات تو جب ہے کہ خود گر کے سنبھلنا سیکھو

کون مل جائے کہاں راہ کا پتھر بن کر

شرط یہ ہے کہ اسی راہ پہ چلنا سیکھو

کیوں ہو خاموش بھلا جھیل کے پانی کی طرح

مثل طوفان ذرا تم بھی مچلنا سیکھو

ہو تو سکتا ہے کہ ہر موڑ پہ ناکامی ہو

عزم و دانائی سے حالات بدلنا سیکھو

کسی تاریکی کا احساس نہ ہونے پائے

شمع کی طرح ہر اک گام پہ جلنا سیکھو