چمن میں سیر کی خاطر جو گل عزار آئے

Sabiha Nasreen

چمن میں سیر کی خاطر جو گل عزار آئے

خراج حسن ادا کرنے برگ و بار آئے

حریم ناز کی معجز نمائیوں کے رموز

اگر کہیں تو کسی کو نہ اعتبار آئے

سرور طور کے جلوے سے ہے جنہیں حاصل

وہ سجدہ گاہ محبت میں بے قرار آئے

جو حرف و صوت کی بندش نہ کر سکے انگیز

خیال عارض و گیسو میں اشک بار آئے

گل سبد ہے یہ نسریںؔ کا شعر چن لیجئے

ہمارے طرز سخن سے کبھی نہ عار آئے