پھر ہمیں دیدۂ تر یاد آیا

Sabiha Nasreen

پھر ہمیں دیدۂ تر یاد آیا

پھر ہمیں نور سحر یاد آیا

حسن خط سر بہ مہر یاد آیا

شق ہوا جس کے اشارے سے قمر

آج وہ رشک قمر یاد آیا

سوز دل بن گیا پرکالۂ عشق

شعلہ بر دوش جگر یاد آیا

دیکھنے سے تجھے اے شمع حرم

شب اسریٰ کا سفر یاد آیا

اشک رخسار پہ ڈھلنے سے ترے

ہم کو تابندہ گہر یاد آیا

کیوں زلیخا کے قریں یوسف کو

شاہد غیب کا در یاد آیا

شامل فکر سخن ہو نسرینؔ

نامہ بر کوئی اگر یاد آیا