رشتۂ حسن و محبت ہے نہایت نازک

Sabiha Nasreen

رشتۂ حسن و محبت ہے نہایت نازک

قصر معشوق کی ہوتی ہے اقامت نازک

پردۂ محمل لیلیٰ سے ہے مجنوں کو تراس

رنگ چہرے کا اڑا ہو گئی حالت نازک

دست نازک سے گرا پنجۂ مرجاں ناگاہ

در منشور لئے آئی ہے ساعت نازک

مرحلہ جشن عروسی کا بہر طور رہا

بن گئی اور صبیحہ کی صباحت نازک

زیب دیتی نہیں نسریںؔ کو یہ دنیا داری

کس طرح عہدہ برا ہووے ذہانت نازک