بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی

Sabiha Nasreen

بات ساقی کی نہ ٹالی جائے گی

یہ غزل سانچے میں ڈھالی جائے گی

کر کے توبہ آئے دل کو جب قرار

مہر شیشہ توڑ ڈالی جائے گی

جب نقاب رخ ہٹا لی جائے گی

صبح ہوگی رات کالی جائے گی

کہکشاں ہے رفعتوں میں واژگوں

اس طرف کیوں طبع عالی جائے گی

پان کھاتے ہیں تو وہ کرتے ہیں قتل

کب بھلا ہونٹوں سے لالی جائے گی

باغباں آمادۂ پیکار ہے

یہ سبد گلچیں کی خالی جائے گی

دستک ناموس کا ہے یہ شعور

در پہ دلبر کے نہ ٹالی جائے گی

میہماں عالی طبیعت ہے بہت

خوان میں سونے کی تھالی جائے گی

غم نہ کر نسریںؔ تری کشتی ضرور

شوخ موجوں سے نکالی جائے گی