اس شہر تشنگی میں کہیں آب کے سوا
Obaidullah Siddiquiاس شہر تشنگی میں کہیں آب کے سوا
کچھ بھی نظر نہ آیا مجھے خواب کے سوا
پھر کس کے کام آئے گی میری شناوری
دریا میں کچھ نہ ہوگا جو گرداب کے سوا
اس روشنی میں جس سے منور ہے کائنات
سب کچھ دکھائی دیتا ہے مہتاب کے سوا
باغ جہاں کی سیر میں اب کیا بتاؤں میں
کیا کیا مجھے ملا گل شاداب کے سوا
یہ آنکھیں یہ دماغ یہ زخموں کا گھر بدن
سب محو خواب ہیں دل بے تاب کے سوا
اہل جنوں کو اس کی خبر دیر سے ہوئی
اک گھر بھی ہوگا دشت فسوں تاب کے سوا