زندگی اک خواب ہے یہ خواب کی تعبیر ہے
Obaidullah Siddiquiزندگی اک خواب ہے یہ خواب کی تعبیر ہے
حلقۂ گیسوئے دنیا پاؤں کی زنجیر ہے
کچھ نہیں اس کے سوا میرے تصرف میں یہاں
دل کا بس جتنا علاقہ درد کی جاگیر ہے
پتلیاں آنکھوں کی ساکت ہو گئیں پڑھتے ہوئے
آسماں پر کس زباں میں جانے کیا تحریر ہے
مجھ کو گویائی پہ اکسایا تھا دل نے ایک بار
آج تک ہونٹوں پہ قائم لذت تقریر ہے
اب نہ جانے کس طرف لے جائیں وحشی آندھیاں
شاخ سے ٹوٹا ہوا پتا بہت دلگیر ہے
سب بہادر ہیں یہاں ذکر اجل ہونے تلک
بزدلی اس کو کہوں یا خون کی تاثیر ہے