ذرا سی بات پہ آنکھیں بھگونے لگتے تھے

Zaheen Lakhnawi (b. 1999)

ذرا سی بات پہ آنکھیں بھگونے لگتے تھے

ہمارے جیسے خوشی میں بھی رونے لگتے تھے

اداسی غیر کی آنکھوں میں جب بھی دکھتی تھی

اسے بھی اپنی ہی آنکھوں میں ڈھونے لگتے تھے

عجیب قرب تھا تجھ سے کہ وقت رخصت میں

اداس گھر کے سبھی لوگ ہونے لگتے تھے

ہمیں پتہ ہی نہیں تھی حقیقت تعبیر

سویرا ہوتے ہی ہم خواب بونے لگتے تھے

غم حیات میں وحشت کا عالم ایسا تھا

کہ چیختے ہوئے سے گھر کے کونے لگتے تھے

بس اپنے جیسے ہی کرتے تھے رت جگے ورنہ

تھے ایسے لوگ بھی جو رو کے سونے لگتے تھے

تری ندی کی روانی میں تھی کشش ایسی

ہم اپنی کشتیاں خود ہی ڈبونے لگتے تھے