مرے آنسوؤں پہ نظر نہ کر مرا شکوہ سن کے خفا نہ ہو
Kaif Ikramiمرے آنسوؤں پہ نظر نہ کر مرا شکوہ سن کے خفا نہ ہو
اسے زندگی کا بھی حق نہیں جسے درد عشق ملا نہ ہو
یہ عنایتیں یہ نوازشیں مرے درد دل کی دوا نہیں
مجھے اس نظر کی تلاش ہے جو ادا شناس وفا نہ ہو
تجھے کیا بتاؤں میں بے خبر کہ ہے درد عشق میں کیا اثر
یہ ہے وہ لطیف سی کیفیت جو زباں تک آئے ادا نہ ہو
یہ شراب زیر حسیں گھٹا جو ہے کیفؔ نازش میکدہ
کسی تشنہ کام کی آرزو کسی تشنہ لب کی دعا نہ ہو