یہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں
Aaga nisaarیہی نہیں کہ فقط پیار کرنے آئے ہیں
ہم ایک عمر کا تاوان بھرنے آئے ہیں
وہ ایک رنگ مکمل ہو جس سے تیرا وجود
وہ رنگ ہم ترے خاکے میں بھرنے آئے ہیں
ٹھٹھر نہ جائیں ہم اس عجز کی بلندی پر
ہم اپنی سطح سے نیچے اترنے آئے ہیں
یہ بوند خون کی لوح کتاب رخ کے لیے
یہ تل سر لب و رخسار دھرنے آئے ہیں
لگا رہے ہیں ابھی خیمے غم کی وادی میں
ہم اس پہاڑ سے دامن کو بھرنے آئے ہیں
ترے لبوں کو ملی ہے شگفتگی گل کی
ہماری آنکھ کے حصے میں جھرنے آئے ہیں
نثارؔ بند قبا کھولنا محال نہ تھا
سو ہم جمال قبا بند کرنے آئے ہیں